search
شعرا
ایکس سپیس
سپیکرز
رابطہ
جگر مراد آبادی
شاعر
تعارف
شاعری
کلام
یہ مصرع کاش نقش ہر در و دیوار ہو جائے
یہ ہے مے کدہ یہاں رند ہیں یہاں سب کا ساقی امام ہے
یادش بخیر جب وہ تصور میں آ گیا
وہ جو روٹھیں یوں منانا چاہیئے
وہ ادائے دلبری ہو کہ نوائے عاشقانہ
اسے حال و قال سے واسطہ نہ غرض مقام و قیام سے
اس کی نظروں میں انتخاب ہوا
تجھی سے ابتدا ہے تو ہی اک دن انتہا ہوگا
ترے جمال حقیقت کی تاب ہی نہ ہوئی
طبیعت ان دنوں بیگانۂ غم ہوتی جاتی ہے
شرما گئے لجا گئے دامن چھڑا گئے
شب فراق ہے اور نیند آئی جاتی ہے
شاعر فطرت ہوں جب بھی فکر فرماتا ہوں میں
سبھی انداز حسن پیارے ہیں
سب پہ تو مہربان ہے پیارے
نظر ملا کے مرے پاس آ کے لوٹ لیا
محبت میں یہ کیا مقام آ رہے ہیں
لاکھوں میں انتخاب کے قابل بنا دیا
کیا برابر کا محبت میں اثر ہوتا ہے
کچھ اس ادا سے آج وہ پہلو نشیں رہے
کوئی یہ کہہ دے گلشن گلشن
کیا تعجب کہ مری روح رواں تک پہنچے
کثرت میں بھی وحدت کا تماشا نظر آیا
کبھی شاخ و سبزہ و برگ پر کبھی غنچہ و گل و خار پر
کام آخر جذبۂ بے اختیار آ ہی گیا
جو طوفانوں میں پلتے جا رہے ہیں
جو اب بھی نہ تکلیف فرمائیے گا
جہل خرد نے دن یہ دکھائے
عشق میں لا جواب ہیں ہم لوگ
عشق کو بے نقاب ہونا تھا
عشق لا محدود جب تک رہنما ہوتا نہیں
اک لفظ محبت کا ادنیٰ یہ فسانا ہے
ہم کو مٹا سکے یہ زمانے میں دم نہیں
فکر منزل ہے نہ ہوش جادۂ منزل مجھے
دنیا کے ستم یاد نہ اپنی ہی وفا یاد
دل میں کسی کے راہ کئے جا رہا ہوں میں
دل کو سکون روح کو آرام آ گیا
دل گیا رونق حیات گئی
داستان غم دل ان کو سنائی نہ گئی
بے کیف دل ہے اور جیے جا رہا ہوں میں
برابر سے بچ کر گزر جانے والے
اللہ اگر توفیق نہ دے انسان کے بس کا کام نہیں
اے حسن یار شرم یہ کیا انقلاب ہے
اگر نہ زہرہ جبینوں کے درمیاں گزرے
اب تو یہ بھی نہیں رہا احساس
آیا نہ راس نالۂ دل کا اثر مجھے
آنکھوں میں بس کے دل میں سما کر چلے گئے
آنکھوں کا تھا قصور نہ دل کا قصور تھا
آج کیا حال ہے یا رب سر محفل میرا
آدمی آدمی سے ملتا ہے