جوش ملیح آبادی

شاعر

تعارف شاعری

تعارف

ِ

جوشؔ ملیح آبادی، جن کا اصل نام شبیر حسن خاں تھا، ۵ دسمبر ۱۸۹۸ کو امبالہ، برطانوی ہندوستان (موجودہ بھارت کی ریاست ہریانہ) پیدا ہوئے۔ وہ ایک علمی و ادبی خانوادے سے تعلق رکھتے تھے، ان کے والد، دادا اور پردادا سبھی شعر و ادب سے وابستہ تھے۔ ابتدائی تعلیم گھر پر حاصل کی اور بعد ازاں کچھ عرصہ کے لیے وشو بھارتی یونیورسٹی (ربندر ناتھ ٹیگور کا ادارہ) میں بھی تعلیم پائی، جہاں انہوں نے عربی اور فارسی کا گہرا مطالعہ کیا۔ قیامِ پاکستان کے بعد جوشؔ ملیح آبادی نے ہجرت اختیار کی اور کراچی میں سولہ سال قیام کے دوران وہ اردو ترقی بورڈ کے اعزازی ٹرسٹی بھی رہے،

ِ

قیامِ پاکستان کے بعد ابتدا میں اُنہیں سرکاری طور پر عزت دی گئی اور خاندانی زرائع کے مطابق ذولفقار علی بھٹو نے جوش کی خوب سرپرستی کی مگر جنرل ضیاءالحق کے دور میں ان پر کڑا وقت گزرا- ذوالفقار علی بھٹو کے دورِ حکومت میں جوش ملیح آبادی سے ریڈیو پاکستان کے لیے ایک انٹرویو دینے کی درخواست کی گئی ،اس وعدے کے ساتھ کہ یہ انٹرویو اُن کی زندگی میں نشر نہیں کیا جائے گا۔ جوش نے اس انٹرویو میں قائداعظم محمد علی جناح اور علامہ اقبال کے بارے میں کھل کر گفتگو کی، اگرچہ اُن کے نزدیک یہ باتیں کسی طور گستاخانہ یا توہین آمیز نہیں تھیں۔ تاہم، یہ انٹرویو وعدے کے خلاف ایک مذہبی جماعت کے رسالے “زندگی” میں شائع کر دیا گیا۔ اس کے نتیجے میں علمائے کرام کا ایک وفد جنرل ضیاءالحق سے ملا اور مطالبہ کیا کہ جوش کو دی گئی تمام سرکاری مراعات، بشمول حکومت کی جانب سے دیا گیا مکان، واپس لی جائیں۔اگرچہ یہ سہولیات واپس نہیں لی گئیں، لیکن جوش کو سرکاری ذرائع ابلاغ سے بلیک لسٹ کر دیا گیا اور اُن کے کلام کو نصابی کتب سے نکال دیا گیا

ِ

جوش اپنی زندگی کے آخری دس سال اسلام آباد میں مقیم رہے، جہاں ۲۲ فروری ۱۹۸۲ کو اُن کا انتقال ہوا۔