search
شعرا
ایکس سپیس
سپیکرز
ہمارے متعلق
رابطہ کیجیے
کیف احمد صدیقی
شاعر
تعارف
شاعری
کلام
میرے کمرے سے نکل کر دائرے
مجھ کو تعلیم سے نفرت ہی سہی
یہ پیلی شاخ پر بیٹھے ہوئے پیلے پرندے
سوچتا ہوں رات جو سورج تھا دائیں ہاتھ میں
چاند
مجھے نقل پر بھی اتنا اگر اختیار ہوتا
آج پھر شاخ سے گرے پتے
سو بار یوں گرجنے کو بادل گرج گیا
قصۂ نقل کچھ ایسا ہے بتائے نہ بنے
ہم ایک ڈھلتی ہوئی دھوپ کے تعاقب میں
اک سانپ مجھ کو چوم کے تریاق دے گیا
روز مرغا بنا کرے کوئی
نکلی جو آج تک نہ کسی کی زبان سے
جو صدا گونجتی تھی کانوں میں
دنیا میں کچھ اپنے ہیں کچھ بیگانے الفاظ
دریا کی موج ہی میں نہیں اضطراب ہے
خوشی کی آرزو کیا دل میں ٹھہرے
سارے دن دشت تجسس میں بھٹک کر سو گیا
سورج آنکھیں کھول رہا ہے سوکھے ہوئے درختوں میں
ہم آج کچھ حسین سرابوں میں کھو گئے
جب کلاس سے ٹیچر جاتے ہیں تو کتنی مسرت ہوتی ہے
سرد جذبے بجھے بجھے چہرے
نام لکھا لیا تو پھر کرتے ہو ہائے ہائے کیوں