search
شعرا
ایکس سپیس
سپیکرز
ہمارے متعلق
رابطہ کیجیے
کیفی اعظمی
شاعر
تعارف
شاعری
کلام
لب لعل پہ مرتعش مرتعش سے
چاند ٹوٹا پگھل گئے تارے
پتھر کے خدا وہاں بھی پائے
نذرانہ
مکان
ذرا سی آہٹ ہوتی ہے تو دل سوچتا ہے
جھکی جھکی سی نظر بے قرار ہے کہ نہیں
اے ہمہ رنگ ہمہ نور ہمہ سوز و گداز
شور یوں ہی نہ پرندوں نے مچایا ہوگا
دائرہ
سومنات
تم جو مل گئے ہو تو یہ لگتا ہے کہ جہاں مل گیا
حریت کو آج پھر ہے ابن حیدر کی تلاش
خار و خس تو اٹھیں راستہ تو چلے
کوئی یہ کیسے بتائے کہ وہ تنہا کیوں ہے
بہارو میرا جیون بھی سنوارو
اندیشے
یہ دنیا ، یہ محفل
یوں ہی کوئی مل گیا تھا سر راہ چلتے چلتے
پشیمانی
کتنی رنگیں ہے فضا کتنی حسیں ہے دنیا
عورت
وہ بھی سراہنے لگے ارباب فن کے بعد
تم اتنا جو مسکرا رہے ہو
سنا کرو مری جاں ان سے ان سے افسانے
شور یوں ہی نہ پرندوں نے مچایا ہوگا
پتھر کے خدا وہاں بھی پائے
میں ڈھونڈتا ہوں جسے وہ جہاں نہیں ملتا
لائی پھر اک لغزش مستانہ تیرے شہر میں
کیا جانے کس کی پیاس بجھانے کدھر گئیں
کی ہے کوئی حسین خطا ہر خطا کے ساتھ
خار و خس تو اٹھیں راستہ تو چلے
کہیں سے لوٹ کے ہم لڑکھڑائے ہیں کیا کیا
جو وہ مرے نہ رہے میں بھی کب کسی کا رہا
جھکی جھکی سی نظر بے قرار ہے کہ نہیں
اتنا تو زندگی میں کسی کے خلل پڑے
ہاتھ آ کر لگا گیا کوئی
آج سوچا تو آنسو بھر آئے