یہ دنیا ، یہ محفل
میرے کام کی نہیں
کس کو سُناؤں حال دلِ بیقرار کا
بُجھتا ہوا چراغ ہوں اپنے مزار کا
اے کاش بھول جاؤں مگربھولتا نہیں
کس دُھوم سے اُٹھا تھا جنازہ بہار کا
یہ دنیا یہ محفل میرے کام کی نہیں
اپنا پتہ ملے نہ خبر یار کی ملے
دشمن کو بھی نہ ایسی سزا پیار کی ملے
اُن کو خدا ملے، ھے خدا کی جنھیں تلاش
مجھ کو بس اِک جھلک مِرے دلدار کی ملے
یہ دنیا یہ محفل میرے کام کی نہیں
صحرا میں آکے بھی مجھ کو ٹھکانا نہ ملا
غم کو بُھلانے کا کوئی بہانہ نہ ملا
دل ترسے جس میں پیار کو، کیا سمجھوں اس سنسکار کو
اِک جیتی بازی ہار کے میں ڈھونڈوں بچھڑے یار کو
یہ دنیا یہ محفل میرے کام کی نہیں
دور نگاہوں سے آنسو بہاتا ھے کوئی
کیسے نہ جاؤں میں مجھ کو بلاتا ھے کوئی
یا ٹوٹے دل کو جوڑ دو، یا سارے بندھن توڑ دو
اے پربت رستہ دے مجھے اے کانٹو دامن چھوڑ دو __!!!
یہ دنیا یہ محفل میرے کام کی نہیں، میرے کام کی نہیں
کیفی اعظمی