کلیم عاجز

شاعر

تعارف شاعری

تعارف

اردو کے ممتاز غزل گو شاعر کلیم عاجز کا اصل نام کلیم احمد تھا۔ ان کی پیدائش کے متعلق مختلف معتبر ذرائع میں 11 اکتوبر 1926 کا سن درج ہے، تاہم تمام متفقہ ریکارڈ کے مطابق وہ تلہارا (Telhara)، ضلع نالندا، بہار (بھارت) میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنے بچپن اور لڑکپن کی تعلیم اسی خطے میں حاصل کی، پھر پٹنہ یونیورسٹی سے بی اے میں گولڈ میڈل حاصل کیا۔ بعد ازاں انہوں نے اردو میں ایم اے کیا اور اسی جامعہ سے ان کی پی ایچ ڈی بھی مکمل ہوئی، جس کا تحقیقی موضوع تھا: "بہار میں اردو شاعری کا ارتقاء"۔ ان کا یہ ڈاکٹریٹ تھیسز بعد میں کتابی صورت میں بھی شائع ہوا۔ عملی زندگی میں وہ طویل عرصے تک پٹنہ یونیورسٹی کے شعبۂ اردو میں استاد رہے اور ریٹائرمنٹ کے بعد بہار اردو ایڈوائزری کمیٹی کے چیئرمین مقرر ہوئے۔ حکومتِ ہند نے انہیں 1989 میں پدم شری کے لیے منتخب کیا، مگر انہوں نے اسے قبول کرنے سے انکار کیا، اور اسے اپنے “زخم کے کریدے جانے” کے مترادف قرار دیا—یہ ان کی آزاد مزاج اور خوددار شخصیت کا ایک اہم پہلو ہے۔

کلیم عاجز بنیادی طور پر کلاسیکی غزل کے شاعر تھے۔ انہوں نے اپنے پہلے شعری مجموعے کا اجراء 1976 میں راشٹرپتی بھون میں کروایا، جس میں اس وقت کے صدرِ ہند نے خصوصی شرکت کی۔ یہ شرف بہت کم شاعروں کو نصیب ہوا۔ امشاعروں میں ان کی مقبولیت غیر معمولی تھی، اور وہ صرف ہندوستان و پاکستان ہی نہیں بلکہ امریکہ سمیت کئی ممالک میں بین الاقوامی مشاعروں میں اپنی مخصوص، دھیمے اور درد آلود اندازِبیاں سے ناظرین کو مسحور کر دیتے تھے۔

کلیم عاجز کی زندگی کا ایک بہت دلگداز پہلو ان کے آبائی گاؤں تلہارا کا وہ المناک تاریخی دور ہے جب تقسیمِ ہند کے فسادات نے پورے گاؤں کو شدید نقصان پہنچایا—بعض بیانات کے مطابق گاؤں تقریباً اجڑ گیا تھا اور ان کے خاندان کو بھی زخم سہنے پڑے۔ انہی حادثات اور دل کے داغ ان کی شاعری کے دردناک پس منظر کا حصہ بنے اور شاید اسی لیے انہیں بعض ناقدین نے “ولی صفت شاعر” کہا، انہیں عظیم ادبائے کرام جیسے فراق گورکھپوری نے سراہا، کلیم عاجز کا انتقال 14 فروری 2015 کو ہزاری باغ (جھارکھنڈ) میں ہوا، اور انہیں ان کی آبائی سرزمین میں سپردِ خاک کیا گیا