search
شعرا
ایکس سپیس
سپیکرز
رابطہ
کلیم عاجز
شاعر
تعارف
شاعری
کلام
دھڑکتا جاتا ہے دل مسکرانے والوں کا
گزر جائیں گے جب دن گزرے عالم یاد آئیں گے
ظالم تھا وہ اور ظلم کی عادت بھی بہت تھی
حقیقتوں کا جلال دیں گے صداقتوں کا جمال دیں گے
امتحان شوق میں ثابت قدم ہوتا نہیں
جدا جب تک تری زلفوں سے پیچ و خم نہیں ہوں گے
تلخیاں اس میں بہت کچھ ہیں مزا کچھ بھی نہیں
تجھے کلیمؔ کوئی کیسے خوش کلام کہے
کچھ حال نہ پوچھو عاجزؔکا کمبخت عجب دیوانہ ہے
مری مستی کے افسانے رہیں گے
بےکسی ہے اور دل ناشاد ہے
بیاں جب کلیمؔ اپنی حالت کرے ہے
ہم نے بے فائدہ چھیڑی غم ایام کی بات
بیاں جب کلیمؔ اپنی حالت کرے ہے
کس ناز کس انداز سے تم ہائے چلو ہو
منہ فقیروں سے نہ پھیرا چاہئے
یہ آنسو بے سبب جاری نہیں ہے
سینے کے زخم پاؤں کے چھالے کہاں گئے
بلاتے کیوں ہو عاجزؔ کو بلانا کیا مزا دے ہے
بڑی طَلب تھی ، بڑا اِنتظار ،دیکھو تو
کون عاجزؔ صلۂ تشنہ دہانی مانگے
زخموں کے نئے پھول کھلانے کے لئے آ
یہ دیوانے کبھی پابندیوں کا غم نہیں لیں گے
مجھے اس کا کوئی گلہ نہیں کہ بہار نے مجھے کیا دیا
ہر چند غم و درد کی قیمت بھی بہت تھی
مرا حال پوچھ کے ہم نشیں مرے سوز دل کو ہوا نہ دے
وہ ستم نہ ڈھائے تو کیا کرے اسے کیا خبر کہ وفا ہے کیا؟
میرے ہی لہو پر گزر اوقات کرو ہو
مت برا اس کو کہو گرچہ وہ اچھا بھی نہیں
اس ناز اس انداز سے تم ہائے چلو ہو
یہ سمندر ہے کنارے ہی کنارے جاؤ
کوئے قاتل ہے مگر جانے کو جی چاہے ہے
تم گل تھے ہم نکھار ابھی کل کی بات ہے