خواجہ میر درد اردو ادب کے ممتاز صوفی شاعر اور فلسفی تھے جنہوں نے 1721ء میں دہلی، ہندوستان میں جنم لیا۔ ان کا اصل نام میر محمد تھا لیکن صوفی حلقوں میں انہیں "میر درد" کے نام سے جانا جاتا تھا، جو ان کے روحانی اور انسانی محبت کے درد کی عکاسی کرتا ہے۔ خواجہ میر درد نے ابتدائی تعلیم دہلی میں حاصل کی اور کلاسیکی فارسی و عربی ادب میں مہارت حاصل کی، جس کے بعد انہوں نے صوفیانہ تعلیم اور تصوف کے علوم میں بھی گہری تربیت حاصل کی۔
خواجہ میر درد نہ صرف ایک شاعر بلکہ ایک عالم اور صوفی تھے۔ وہ چشتیہ سلسلہ کے تابع تھے اور ان کے استاد خواجہ نظام الدین تھے، جن سے انہوں نے روحانی تعلیم اور مراقبے کی مشق کی۔ ان کی شاعری میں صرف عشق و محبت نہیں بلکہ معرفت الٰہی، فلسفہ اور انسان کی روحانی ترقی بھی نمایاں ہے، جو ان کے کلام کو عام صوفیانہ شاعری سے ممتاز کرتا ہے۔ انہوں نے ابتدا میں فارسی میں شاعری کی مگر بعد میں اردو میں غزل اور مثنوی لکھنا اپنا مستقل پیشہ بنایا۔
خواجہ میر درد کی ادبی اور صوفیانہ خدمات آج بھی زندہ ہیں۔ ان کے معاصر شعراء میں میر تقی میر اور حافظ یادگار شامل تھے اور بعض مکاتبات اور اشعار کے تبادلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے ادبی مباحثوں میں بھی حصہ لیا۔ ان کی زیادہ تر غزلیں اور رباعیات آج بھی دہلی اور لاہور کے قدیم مخطوطات میں محفوظ ہیں۔ خواجہ میر درد 1785ء میں دہلی میں وفات پا گئے، لیکن ان کی شاعری میں انسانی اخلاقیات، عشق الٰہی، فقر اور تصوف کے مضامین آج بھی قاری کے دل و دماغ پر گہرا اثر چھوڑتے ہیں اور اردو ادب کے صوفیانہ ورثے میں ایک اہم مقام رکھتے ہیں۔