یہ زلف بتاں کا گرفتار میں ہوں
یہ بیمار چشموں کا بیمار میں ہوں
کدھر بہکی پھرتی ہے اے بیکسی تو
تری جنس کا یاں خریدار میں ہوں
ادھر بات کہنا ادھر دیکھ لینا
سمجھتا ہوں سب ایک عیار میں ہوں
اگر مجھ سے ملیے کبھو عیب کیا ہے
نہ بد وضع تو ہے نہ بد کار میں ہوں
کسو پر بلا تیری تیوری چڑھاوے
تری تیغ ابرو کا افگار میں ہوں
سبھی اپنے جینے سے اے دردؔ خوش ہیں
اگر ہوں تو یہ ایک بیزار میں ہوں
خواجہ میر درد