خُمار بارہ بنکوی، جن کا اصل نام محمد حیدر خان تھا، 19 ستمبر 1919 کو بارہ بنکی، اتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ وہ ایک تہذیبی اور ادبی ماحول رکھنے والے گھرانے سے تعلق رکھتے تھے، جس نے کم عمری ہی سے ان کی لسانی اور شعری تربیت میں گہرا اثر ڈالا۔ ابتدائی تعلیم مقامی مکتب اور مدرسے میں حاصل کرنے کے بعد اُنہوں نے عربی، فارسی اور اردو کے روایتی نصاب کا باقاعدہ مطالعہ کیا، جس کی بدولت اُن کے کلام میں کلاسیکی غزل کی لطافت اور زبان کی پاکیزگی نمایاں ہوئی۔ نوجوانی ہی سے شعر کہنا شروع کیا اور جلد ہی مشاعروں میں ایک منفرد لہجے کے شاعر کے طور پر پہچانے جانے لگے
پیشہ ورانہ زندگی میں خمار بارہ بنکوی نے فلمی صنعت سے بھی وابستگی اختیار کی اور بھارتی فلموں کے لیے ایسے نغمے تخلیق کیے جو اپنی سادگی، مٹھاس اور جذباتی تاثر کے باعث آج بھی مقبول ہیں۔ اُن کی غزل میں رومان، درد، نرم خوئی اور روایت کی جمالیات ساتھ ساتھ چلتی ہیں، جس نے اُنہیں برصغیر کے صفِ اوّل کے غزل گو شعرا میں ایک ممتاز مقام دیا۔ وہ طویل عرصہ تک مشاعروں کی دنیا کے درخشاں ستارے رہے اور پاکستان و بھارت دونوں میں یکساں پذیرائی حاصل کی۔ خمار بارہ بنکوی 19 فروری 1999 کو انتقال کر گئے، مگر ان کا کلام آج بھی اردو ادب میں کلاسیکی اور جدید حسیت کا حسین امتزاج سمجھا جاتا ہے۔