شاعر

خمار بارہ بنکوی

Khumar Barah Bankvi

17
منتخب کلام
17
آواز میں کلام
1
محفلیں
کلام پڑھیں

تعارف

خُمار بارہ بنکوی، جن کا اصل نام محمد حیدر خان تھا، 19 ستمبر 1919 کو بارہ بنکی، اتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ وہ ایک تہذیبی اور ادبی ماحول رکھنے والے گھرانے سے تعلق رکھتے تھے، جس نے کم عمری ہی سے ان کی لسانی اور شعری تربیت میں گہرا اثر ڈالا۔ ابتدائی تعلیم مقامی مکتب اور مدرسے میں حاصل کرنے کے بعد اُنہوں نے عربی، فارسی اور اردو کے روایتی نصاب کا باقاعدہ مطالعہ کیا، جس کی بدولت اُن کے کلام میں کلاسیکی غزل کی لطافت اور زبان کی پاکیزگی نمایاں ہوئی۔ نوجوانی ہی سے شعر کہنا شروع کیا اور جلد ہی مشاعروں میں ایک منفرد لہجے کے شاعر کے طور پر پہچانے جانے لگے
پیشہ ورانہ زندگی میں خمار بارہ بنکوی نے فلمی صنعت سے بھی وابستگی اختیار کی اور بھارتی فلموں کے لیے ایسے نغمے تخلیق کیے جو اپنی سادگی، مٹھاس اور جذباتی تاثر کے باعث آج بھی مقبول ہیں۔ اُن کی غزل میں رومان، درد، نرم خوئی اور روایت کی جمالیات ساتھ ساتھ چلتی ہیں، جس نے اُنہیں برصغیر کے صفِ اوّل کے غزل گو شعرا میں ایک ممتاز مقام دیا۔ وہ طویل عرصہ تک مشاعروں کی دنیا کے درخشاں ستارے رہے اور پاکستان و بھارت دونوں میں یکساں پذیرائی حاصل کی۔ خمار بارہ بنکوی 19 فروری 1999 کو انتقال کر گئے، مگر ان کا کلام آج بھی اردو ادب میں کلاسیکی اور جدید حسیت کا حسین امتزاج سمجھا جاتا ہے۔

منتخب اشعار

کبھی جو میں نے مسرت کا اہتمام کیا

بڑے تپاک سے غم نے مجھے سلام کیا

پورا کلام ‹

حسن جب مہرباں ہو تو کیا کیجیے

عشق کے مغفرت کی دعا کیجیے

پورا کلام ‹
  1. 01 کبھی جو میں نے مسرت کا اہتمام کیا Kabhī jo maiñ ne masarrat kā ihtemām kiyā آواز میں دستیاب
  2. 02 حسن جب مہرباں ہو تو کیا کیجیے Husn jab mehrbaan ho to kya kījiye آواز میں دستیاب
  3. 03 آنکھوں کے چراغوں میں اجالے نہ رہیں گے Aankhon ke charaghon mein ujaale na rahenge آواز میں دستیاب
  4. 04 مجھ کو یہ جان و دل قبول نغمے کو نغمہ ہی سمجھ Mujh ko yeh jaan o dil qubool naghme ko naghma hi samajh آواز میں دستیاب
  5. 05 دل کو تسکین یار لے ڈوبی Dil ko taskeen-e-yaar le doobi آواز میں دستیاب
  6. 06 اے موت انہیں بھلائے زمانے گزر گئے Aye maut unhein bhulaye zamaane guzar gaye آواز میں دستیاب