search
شعرا
ایکس سپیس
سپیکرز
رابطہ
خمار بارہ بنکوی
شاعر
تعارف
شاعری
کلام
کبھی جو میں نے مسرت کا اہتمام کیا
حسن جب مہرباں ہو تو کیا کیجیے
آنکھوں کے چراغوں میں اجالے نہ رہیں گے
مجھ کو یہ جان و دل قبول نغمے کو نغمہ ہی سمجھ
دل کو تسکین یار لے ڈوبی
اے موت انہیں بھلائے زمانے گزر گئے
اک پل میں اک صدی کا مزا ہم سے پوچھئے
ہوش زدہ نادان سے ڈر
غمِ دنیا نے ہمیں جب کبھی ناشاد کیا
وہی پھر مجھے یاد آنے لگے ہیں
تو چاہئے نہ تیری وفا چاہئے مجھے
ہم انہیں وہ ہمیں بھلا بیٹھے
جھنجھلائے ہیں لجائے ہیں پھر مسکرائے ہیں
کبھی شعر و نغمہ بن کے کبھی آنسوؤں میں ڈھل کے
اک پل میں اک صدی کا مزا ہم سے پوچھئے
یہ مصرع نہیں ہے وظیفہ مرا ہے
ایسا نہیں کہ ان سے محبت نہیں رہی