شاعر · 1942 – · امروہہ، اترپردیش، انڈیا
خورشیدرضوی
Khursheed Rizvi
80
منتخب کلام
1
آواز میں کلام
1
محفلیں
تعارف
پروفیسر ڈاکٹر خورشید رضوی اردو ادب کے ممتاز شاعر، محقق، نقاد، مترجم اور ماہرِ عربی زبان و ادب ہیں۔ ان کا اصل نام محمد خورشید الحسن رضوی ہے اور وہ 19 مئی 1942ء کو امروہہ، اتر پردیش، ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ تقسیمِ ہند کے بعد ان کا خاندان پاکستان منتقل ہوگیا اور انہوں نے ساہیوال میں پرورش پائی۔ ابتدائی تعلیم کے بعد انہوں نے پنجاب یونیورسٹی کے اورینٹل کالج سے عربی زبان و ادب میں ایم اے کیا اور طلائی تمغہ حاصل کیا، بعدازاں اسی شعبے میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ ان کی علمی و ادبی شخصیت کی تشکیل میں ان کی والدہ کے شعری ذوق اور اساتذہ کی علمی رہنمائی کا اہم کردار رہا۔ انہوں نے محض دس برس کی عمر میں شعر کہنا شروع کردیا تھا اور کم عمری ہی سے ادب و شاعری سے گہری وابستگی پیدا ہوگئی تھی۔
خورشید رضوی کی شاعری کلاسیکی روایت اور جدید فکری شعور کا حسین امتزاج ہے۔ ان کی غزل میں فکری گہرائی، معنوی تہہ داری، علامت و استعارے کا بلیغ استعمال اور انسانی باطن کی پیچیدہ کیفیات نہایت خوب صورتی سے جلوہ گر ہوتی ہیں۔ تنہائی، وجودی کرب، وقت کی بے ثباتی، محبت، محرومی اور زندگی کے فلسفیانہ پہلو ان کے اہم شعری موضوعات ہیں۔ ان کے شعری مجموعوں میں رائگاں، شاخِ تنہا، سرابوں کے صدف اور کلیات یکجا خصوصی اہمیت رکھتے ہیں۔ شاعری کے ساتھ انہوں نے نثر، تنقید اور ترجمے کے میدان میں بھی اپنی صلاحیتوں کا اظہار کیا اور اپنی علمی و ادبی بصیرت سے اردو ادب کو گراں قدر سرمایہ عطا کیا۔
خورشید رضوی کی شخصیت کا ایک اہم حوالہ عربی زبان و ادب میں ان کی تحقیقی خدمات ہیں۔ انہوں نے بہاولپور، سرگودھا اور لاہور کے مختلف تعلیمی اداروں میں تدریسی فرائض انجام دیے اور گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں شعبۂ عربی کے سربراہ کی حیثیت سے بھی خدمات سرانجام دیں۔ ان کی اہم تحقیقی تصانیف میں دو جلدوں پر مشتمل عربی ادب قبل از اسلام اور تاریخِ علوم میں تہذیبِ اسلامی کا مقام قابلِ ذکر ہیں۔ ان کی علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان نے 2008ء میں انہیں ستارۂ امتیاز سے نوازا، جب کہ انہیں عالمی فروغِ اردو ادب ایوارڈ سمیت متعدد ادبی اعزازات بھی ملے۔ بلاشبہ خورشید رضوی کا شمار ان اہلِ قلم میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی تخلیقی عظمت، علمی ریاضت اور فکری بالیدگی کے ذریعے اردو ادب میں ایک منفرد اور معتبر مقام حاصل کیا ہے۔
خورشید رضوی کی شاعری کلاسیکی روایت اور جدید فکری شعور کا حسین امتزاج ہے۔ ان کی غزل میں فکری گہرائی، معنوی تہہ داری، علامت و استعارے کا بلیغ استعمال اور انسانی باطن کی پیچیدہ کیفیات نہایت خوب صورتی سے جلوہ گر ہوتی ہیں۔ تنہائی، وجودی کرب، وقت کی بے ثباتی، محبت، محرومی اور زندگی کے فلسفیانہ پہلو ان کے اہم شعری موضوعات ہیں۔ ان کے شعری مجموعوں میں رائگاں، شاخِ تنہا، سرابوں کے صدف اور کلیات یکجا خصوصی اہمیت رکھتے ہیں۔ شاعری کے ساتھ انہوں نے نثر، تنقید اور ترجمے کے میدان میں بھی اپنی صلاحیتوں کا اظہار کیا اور اپنی علمی و ادبی بصیرت سے اردو ادب کو گراں قدر سرمایہ عطا کیا۔
خورشید رضوی کی شخصیت کا ایک اہم حوالہ عربی زبان و ادب میں ان کی تحقیقی خدمات ہیں۔ انہوں نے بہاولپور، سرگودھا اور لاہور کے مختلف تعلیمی اداروں میں تدریسی فرائض انجام دیے اور گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں شعبۂ عربی کے سربراہ کی حیثیت سے بھی خدمات سرانجام دیں۔ ان کی اہم تحقیقی تصانیف میں دو جلدوں پر مشتمل عربی ادب قبل از اسلام اور تاریخِ علوم میں تہذیبِ اسلامی کا مقام قابلِ ذکر ہیں۔ ان کی علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان نے 2008ء میں انہیں ستارۂ امتیاز سے نوازا، جب کہ انہیں عالمی فروغِ اردو ادب ایوارڈ سمیت متعدد ادبی اعزازات بھی ملے۔ بلاشبہ خورشید رضوی کا شمار ان اہلِ قلم میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی تخلیقی عظمت، علمی ریاضت اور فکری بالیدگی کے ذریعے اردو ادب میں ایک منفرد اور معتبر مقام حاصل کیا ہے۔
منتخب اشعار
یہی ہے عشق کہ سر دو مگر دہائی نہ دو
وفور جذب سے ٹوٹو مگر سنائی نہ دو
میں ہوں سر چشمۂ اول سے بہت دور
پئے نور بھٹکنے والا