دیوار و در میں غم کا تماشہ تو ہے ابھی
وہ خود نہیں پہ اس کا بلاوا تو ہے ابھی
مانوس ہو چلی ہے اداسی سے زندگی
پاؤں کے آبلوں کا نظارا تو ہے ابھی
سچ ہے کہ زہر عشق تلطف گریز تھا
چنگاریوں نے ورنہ پکارا تو ہے ابھی
خوابوں کو در بدر ہی رکھا تھا نصیب نے
آشفتگی میں جاں کا خسارہ تو ہے ابھی
معلوم ہے کہ کچھ بھی نہیں دشت زیست میں
امید خواب ہی پہ گزارا تو ہے ابھی
رخصت شب فراق بہت سہہ لیا تجھے
ہم راز گرچہ خواب ستارا تو ہے ابھی
بے تابیاں سمیٹ کے پوچھا کرے ہے دل
قسمت میں اپنی صبح کا تارا تو ہے ابھی
کشور ناہید