search
شعرا
ایکس سپیس
سپیکرز
ہمارے متعلق
رابطہ کیجیے
کشور ناہید
شاعر
تعارف
شاعری
کلام
اے رہ ہجر نو فروز دیکھ کہ ہم ٹھہر گئے
تشنگی اچھی نہیں رکھنا بہت
روایت نہ ٹوٹے
خواب میں آئے مجھے مجھ سے ملائے
کتے اور خرگوش
خوش بیاباں میں مگر شہر میں ڈرنا اس کا
یہ حوصلہ تجھے مہتاب جاں ہوا کیسے
مری آنکھوں میں دریا جھولتا ہے
ایک نظم اجازتوں کے لیے
کبھی وہ آنکھ کبھی فیصلہ بدلتا ھے
وہ اجنبی تھا غیر تھا کس نے کہا نہ تھا
سلگتی ریت پہ آنکھیں بھی زیر پا رکھنا
کبھی نظر توآ تسکین اضطراب تو دے
گریہ، مایوسی، غم ترک وفا کچھ نہ رہا
ترے قریب پہنچنے کے ڈھنگ آتے تھے
ہم گنہ گار عورتیں ہیں
شام بانہوں میں لیے رات کی رانی آئی
نظر تو آ کبھی آنکھوں کی روشنی بن کر
حوصلہ شرط وفا کیا کرنا
دیوار و در میں غم کا تماشہ تو ہے ابھی
حسرت ہے تجھے سامنے بیٹھے کبھی دیکھوں
ہم کہ مغلوب گماں تھے پہلے
تجھ سے وعدہ عزیز تر رکھا
ابھی موسم نہیں بدلا
عمر میں اس سے بڑی تھی لیکن پہلے ٹوٹ کے بکھری میں
میں کون ہوں
جب میں نہ ہوں تو شہر میں مجھ سا کوئی تو ہو
دل کو بھی غم کا سلیقہ نہ تھا پہلے پہلے