ماہ نور

شاعر

تعارف شاعری

چند الفاظ قدرت کی صناعی پہ لکھے تھے

چند الفاظ قدرت کی صناعی پہ لکھے تھے
گردشِ مدار میں پستی ہوئی وہ رات کالی
ابھرتی دھرتی سے پھوٹتی وہ شفق کی لالی
آغاز صبح،شجر سی چھنتی وہ روشنی کی جالی
ثناء خواں پرندے چہکتے پھرتے ،ڈالی ڈالی
کہہیں پہ سبزا،کہیں پہ خشکی کہیں پہ بہتا پانی
کہیں پہ جنگل کہیں ہے پربت کہیں پہ وادی
کہیں کھڑا برف کا تودا کہیں چمکتی برف کی دھاری
کہیں دفن معدنی خزانے،کہیں پہ مچھلیوں کی روانی
الگ ہی اک نظم پہ چلتی، وسیع عریض یہ راجدھانی
ہر اک زرہ ہر اک بوٹا کرے ہے اقرارَوحدانی
ہر اک کوچہ ہر اک جاہ پہ عیاں ہوئی تیری نشانی ۔
ہے تو ہی خالق تو ہی مالک ہے تو ہی رازق
ہے تو ہی یکتا تو ہے واحد نہیں ہے کوئی تیرا ثانی ۔

ماہ نور