ماہ نور

شاعر

تعارف شاعری

لب پہ کھِلتی ہنسی میں گُھلتے سے غم

لب پہ کھِلتی ہنسی میں گُھلتے سے غم
وہ خوشی تیری عطا تو یہ اشک بھی تیرے کرم
تم تو مسرتوں میں نہیں ہمسفر بنے
کیسے پکار لیں تمھیں سخت لمحوں میں ہم
شکستہ پاء، تھکا بدن ، نہ کوئ سنگِ میل
اس سفر ناتمام میں کہیں ہو نہ جائیں گم
کہیں بہکتی نظر کا بھٹکنا ، تلاشنا ، لوٹ آنا
کہیں بے تال لے پہ ڈھڑکنوں کا رقصِ بے ردھم
لرزتی پلکوں پہ ڈولتی دھندلی سی اک صدا
اور یادوں کے دریچوں میں بکھرے ان سلے زخم

ماہ نور