ماہ نور

شاعر

تعارف شاعری

میرے چارہ گر کوئی چارہ کر

میرے چارہ گر کوئی چارہ کر
‏میرے کوزہ گر کوئی تو ایسا ہنر تو کر
‏مٹی اٹھا میری پاس سے
‏زرا چاہ ملا میری ذات میں
‏اسے دل کے چاک پہ رکھ زرا
‏مجھے ایسی کوئی شکل تُو دے
‏جو تیرے خیال کا روپ ہو
‏چھڑک خاک اپنے نصیب کی
‏کہ رہے ساتھ تیرا میرا سدا
‏مجھے گوندھ پیار کے آب سے
‏⁧ مجھے ڈھال اپنے مزاج میں
‏مجھے روپ ایسا تُو دے کوئی
‏کہ تری نظر میں سماؤں بس
‏میں نہ بھاؤں کبھی کسی اور کو
‏مجھے لمس کے اپنی یوں آنچ دے
‏کہ نہ ٹوٹ پائیں کبھی مورت یہ
کہ‏تیری چاہ سے تبدیل ہو
‏میرا رنگ روپ میری ہر ادا
‏اسی روپ میں ڈھل جاۓ بس
‏جو تیرا گمان تیری چاہ ہو
‏میری منزلوں کے راستے
‏تیری انگلیوں کے پور ہوں
‏میری ذات خود میری نہ ہو
‏میری ذات پہ تیرا حق رہے
‏تیرا من جو مجھ سے پھرے کبھی
‏میرا تن امانتِ گور ہو

کریسنٹ (ماہ نور)