نئے سال کی چوکھٹ پہ کھڑی
میں سوچ رہی ہوں
کیا میرے بس میں کچھ ہے ؟
میں جو سنِ آئندہ کی جانب نہ بڑھنا چاہوں
تو نہ جاؤں
جو اسی سال میں رہنا چاہوں
تو رہ سکوں
یا نیا برس تیزی سے گزارنا چاہوں
تو گزار سکوں گی
یا ان لمحوں کو روکنا چاہوں
تو ٹہرا سکوں
نہیں یہ میرے اختیار میں نہیں
ہاں میرے ہاتھ تو کچھ بھی نہیں ہے
میں چاہوں نہ چاہوں مجھے ہر حال یہ زینہ چڑھناہے
آگے بڑھنا ہے سب کے ساتھ چلنا ہے کہ
خالق نے گردشِ زمیں سب پہ یکساں رکھی ہے
زماں کی گردش سے ماورا
تین سو پینسٹھ دن سب کے حصہ میں ہیں
نیا سال ایسی جگہ جہاں سب کو جانا ہے
کہیں کسی کو چند گھنٹوں پہلے
کہیں کسی کوچند لمحوں بعد
تو چلتے ہیں سالِ نو کی طرف
اس دعا کیساتھ کہ
سالِ پیش رو ،سنِ ماضی سے بہترین ہو
نیا برس ہمارے لیئے نوید ہو مسرت ہو!
ماہ نور