لو مل گئے ہیں کچھ پل اور
تو جی ہی لیں کچھ اس طور
کہ جب جائیں تو کچھ آنکھیں ہوں نم
کچھ اچھی سی یادیں دے جائیں ہم
سب گھر والے بھی یاد رکھیں
کچھ دوست بھی اپنی بات کریں
کچھ کھٹی میٹھی باتیں ہوں
کچھ جلتی بجھتی یادیں ہوں
کبھی آنسو کسی کے پوچھ دیں
کہیں میٹھے دو بول ہی بول دیں
کبھی حوصلہ کسی کا ہوں
کہیں ساتھی بنکر کھڑےبھی ہوں
جب تزکرہ ہو محفل میں
تو زعفران سی مجلس ہو
کوئی سوچ کر کچھ مسکائے
کسی آنکھ سے آنسو بہ جائے
کوئی ہنستا ہو یا پھر روتا ہو
بس ہم کو دعائیں دیتا ہو
اب مل ہی گئے ہیں جب یہ پل
تو جی لیں آج پھر سوچیں گے کل
جو مل ہی گئے ہیں کچھ پل اور !!!
ماہ نور