سنہری دوپہروں روپہلی رتوں
میں سورج مکھی کے شگوفوں کے پاس
چناروں سے قد اور ستاروں سے نین
زر افشاں بدن زعفرانی لباس
حسیں گوریاں گنگناتی پھریں
مٹکتی پھریں ڈگمگاتی پھریں
کڑی دھوپ میں قاش زر سی تراشی ہوئی پنڈلیاں
لہکتی پھریں تھرتھراتی پھریں
سجل راستوں سے گزر جائیں یہ
نگینوں بھرے آبشاروں کی طرح
زمانوں کے دل میں اتر جائیں یہ
لجیلی کٹیلی کٹاروں کی طرح
سنہری دوپہروں کو ٹھنڈک عطا کرنے والے خیالوں کے جادو جگاتی پھریں
مٹکتی پھریں ڈگمگاتی پھریں
مجید امجد