اٹھائے جا ان کے ستم اور جئے جا
یوں ہی مسکرائے جا آنسو پئے جا
یہی ہے محبت کا دستور اے دل
وہ غم دے تجھے تو دعائیں دئے جا
کبھی وہ نظر جو سمائی تھی دل میں
اسی اک نظر کا سہارا لیے جا
ستائے زمانہ ستم ڈھائے دنیا
مگر تو کسی کی تمنا کئے جا
مجروح سلطانپوری
Uthaye ja unke sitam aur jiye ja
Yun hi muskuraye ja aansoo piye ja
Yehi hai mohabbat ka dastoor ae dil
Woh gham de tujhe to duayein diye ja
Kabhi woh nazar jo samai thi dil mein
Usi ek nazar ka sahara liye ja
Satae zamana sitam dhaye duniya
Magar tu kisi ki tamanna kiye ja
مجروح سلطان پوری بیسویں صدی کے اُن ممتاز اردو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے کلاسیکی شعری روایت اور جدید حسیت کو نہایت سلیقے سے ہم آہنگ کیا۔ ان کا اصل نام اسرار الحسن خان تھا اور وہ یکم اکتوبر 1919ء کو سلطان پور (اتر پردیش) میں پیدا ہوئے۔ دینی اور مشرقی علوم کے ساتھ ساتھ طبِ یونانی کی باقاعدہ تعلیم حاصل کی، مگر فطری میلان شاعری کی طرف تھا۔ جگر ...
مکمل تعارف پڑھیں