یوں تو آپس میں بگڑتے ہیں خفا ہوتے ہیں
ملنے والے کہیں الفت میں جدا ہوتے ہیں
ہیں زمانے میں عجب چیز محبت والے
درد خود بنتے ہیں خود اپنی دوا ہوتے ہیں
حال دل مجھ سے نہ پوچھو مری نظریں دیکھو
راز دل کے تو نگاہوں سے ادا ہوتے ہیں
ملنے کو یوں تو ملا کرتی ہیں سب سے آنکھیں
دل کے آ جانے کے انداز جدا ہوتے ہیں
ایسے ہنس ہنس کے نہ دیکھا کرو سب کی جانب
لوگ ایسی ہی اداؤں پہ فدا ہوتے ہیں
مجروح سلطانپوری
Yun to aapas mein bigadte hain khafa hote hain
Milne wale kahin ulfat mein juda hote hain
Hain zamanay mein ajab cheez mohabbat wale
Dard khud bante hain khud apni dawa hote hain
Haal-e-dil mujh se na poocho meri nazrein dekho
Raaz dil ke to nigahon se ada hote hain
Milne ko yun to mila karti hain sab se aankhen
Dil ke aa jaane ke andaaz juda hote hain
Aise hans hans ke na dekha karo sab ki jaanib
Log aisi hi adaon pe fida hote hain
مجروح سلطان پوری بیسویں صدی کے اُن ممتاز اردو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے کلاسیکی شعری روایت اور جدید حسیت کو نہایت سلیقے سے ہم آہنگ کیا۔ ان کا اصل نام اسرار الحسن خان تھا اور وہ یکم اکتوبر 1919ء کو سلطان پور (اتر پردیش) میں پیدا ہوئے۔ دینی اور مشرقی علوم کے ساتھ ساتھ طبِ یونانی کی باقاعدہ تعلیم حاصل کی، مگر فطری میلان شاعری کی طرف تھا۔ جگر ...
مکمل تعارف پڑھیں