جیسے ہوتی آئی ہے ویسے بسر ہو جائے گی
زندگی اب مختصر سے مختصر ہو جائے گی
گیسوئے عکس شب فرقت پریشاں اب بھی ہے
ہم بھی تو دیکھیں کہ یوں کیوں کر سحر ہو جائے گی
انتظار منزل موہوم کا حاصل یہ ہے
ایک دن ہم پر عنایت کی نظر ہو جائے گی
سوچتا رہتا ہے دل یہ ساحل امید پر
جستجو آئینۂ مد و جزر ہو جائے گی
درد کے مشتاق گستاخی تو ہے لیکن معاف
اب دعا اندیشہ یہ ہے کارگر ہو جائے گی
سانس کے آغوش میں ہر سانس کا نغمہ یہ ہے
ایک دن امید ہے ان کو خبر ہو جائے گی
میراجی
Jaise hoti aayi hai waise basar ho jaayegi
Zindagi ab mukhtasar se mukhtasar ho jaayegi
Gaisoo-e-aks-e-shab-e-furqat pareshaan ab bhi hai
Hum bhi to dekhein ke yoon kyun kar sahar ho jaayegi
Intizaar-e-manzil-e-mauhoom ka haasil yeh hai
Ek din hum par inaayat ki nazar ho jaayegi
Sochta rehta hai dil yeh saahil-e-umeed par
Justaju aaina-e-mad-o-jazr ho jaayegi
Dard ke mushtaq gustaakhi to hai lekin maaf
Ab dua andesha yeh hai kaargar ho jaayegi
Saans ke aaghosh mein har saans ka naghma yeh hai
Ek din umeed hai un ko khabar ho jaayegi
میرا جی اردو ادب کے اُن چند منفرد اور اثر انگیز شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے بیسویں صدی میں اردو نظم کو ایک بالکل نیا شعور، نیا لہجہ اور نئی فکری جہت عطا کی۔ ان کا اصل نام محمد ثناءُ اللہ ڈار تھا اور وہ 25 مئی 1912ء کو پیدا ہوئے۔ ابتدا میں انہوں نے ساحر تخلص اختیار کیا، مگر بعد ازاں اپنی ذاتی اور جذباتی زندگی کے ایک اہم تجربے کے باعث میرا جی ...
مکمل تعارف پڑھیں