یہ سندرتا اتنے دنوں تک کس پردے میں چھپی ہوئی تھی ؟
آج آکاش بنا ہے سندر ، سندر چاند، ستارے سندر
سندر پتِّے پھول اور ڈالی اور پھلواری سارے سندر
سندر پنچھی کے رس والے میٹھے میٹھے پیارے نغمے
آج صدائیں ندّی کی ہیں مُن کو ہلکے بھارے نغمے
رات سہانی اور اندھیری، پیتم کے نینوں کا کاجل
اب جیون کے ساتھی ہونگے ،سکھ سیجوں کے موہن منڈل
آج بدل کر روپ منوہر دینا ہے مستی میں ناچی
یہ سندرتا، اتنے دنوں تک کس پردے میں چھپی ہوئ تھی
پریم کے میٹھے میٹھے رس والے جذبوں سے بوجھل جوبن
تیز نگاہیں، ہونٹ کمانیں اور زلفوں کی زہری ناگن
سانس، کسی خوشبو کی لہریں ، نرم،اچھوتی،ہلکی ہلکی
سورگ سے آئی بھوکی لہریں ،گرم گرم سہانی بھینی بھینی
پریم کا پنچھی ڈر سے جھجکتا رکتا رکتا چھپتا پھرتا
پریم شکاری بے باکی سے ہنستے ہنستے آگے بڑھتا
سکھ کی متوالی برساتیں ، سب جنموں کے گہرے بندھن
پریمی او پریتم کی باتیں ، اندر سجا کے سورگ کا آنگن
یہ سندرتا اتنے دنوں تک کس پردے میں چھپی ہوئی تھی؟
میراجی