افسوس کہ دنداں کا کیا رزق فلک نے
جن لوگوں کی تھی در خور عقد گہر انگشت
کافی ہے نشانی ترا چھلے کا نہ دینا
خالی مجھے دکھلا کے بہ وقت سفر انگشت
لکھتا ہوں اسدؔ سوزش دل سے سخن گرم
تا رکھ نہ سکے کوئی مرے حرف پر انگشت
مرزا غالب
Afsoos ke dandaan ka kiya rizq falak ne
Jin logon ki thi dar-khor-e-aqd-e-gauhar angusht
Kaafi hai nishaani tera chhalle ka na dena
Khaali mujhe dikhla ke ba waqt-e-safar angusht
Likhta hoon Asad sozish-e-dil se sukhan garm
Ta rakh na sake koi mare harf par angusht
غالب کا اصل نام اسد اللہ بیگ تھا، وہ 27 دسمبر 1797ء کو آگرہ میں پیدا ہوئے۔ غالب اردو کے ایک منفرد شاعر تھے ان کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ زندگی کے مشاہدات، حقائق اور انسانی نفسیات کو گہرائی میں جاکر سمجھتے تھے اور اسے بڑی ہی سادگی عام لوگوں کی سمجھ بوجھ کے لیے بیان کردیتے تھے۔ غالب کی شاعری میں انسان اور کائنات کے مسائل کے ساتھ محبت اور زندگی...
مکمل تعارف پڑھیں