بیم رقیب سے نہیں کرتے وداع ہوش
مجبور یاں تلک ہوئے اے اختیار حیف
جلتا ہے دل کہ کیوں نہ ہم اک بار جل گئے
اے نا تمامی نفس شعلہ بار حیف
مرزا غالب
Beem-e-raqib se nahin karte wida-e-hosh
Majboor yaan talak hue aye ikhtiyar haif
Jalta hai dil ke kyon na hum ek baar jal gaye
Aye na-tamami-e-nafs-e-sho'la-baar haif
غالب کا اصل نام اسد اللہ بیگ تھا، وہ 27 دسمبر 1797ء کو آگرہ میں پیدا ہوئے۔ غالب اردو کے ایک منفرد شاعر تھے ان کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ زندگی کے مشاہدات، حقائق اور انسانی نفسیات کو گہرائی میں جاکر سمجھتے تھے اور اسے بڑی ہی سادگی عام لوگوں کی سمجھ بوجھ کے لیے بیان کردیتے تھے۔ غالب کی شاعری میں انسان اور کائنات کے مسائل کے ساتھ محبت اور زندگی...
مکمل تعارف پڑھیں