گلشن کو تری صحبت از بس کہ خوش آئی ہے
ہر غنچے کا گل ہونا آغوش کشائی ہے
واں کنگر استغنا ہر دم ہے بلندی پر
یاں نالے کو اور الٹا دعواۓ رسائی ہے
از بس کہ سکھاتا ہے غم ضبط کے اندازے
جو داغ نظر آیا اک چشم نمائی ہے
مرزا غالب
Gulshan ko terī sohbat az bas ke KHush aa_ī hai
Har ghunche kā gul honā āġhosh-kushā_ī hai
Wāñ kangar-e istiġhnā har dam hai bulandī par
Yāñ nāle ko aur ulṭā da'vā-e rasā_ī hai
Az bas ke sikhātā hai ġham zabt ke andāze
Jo dāġh nazar aayā ek chashm-numā_ī hai
غالب کا اصل نام اسد اللہ بیگ تھا، وہ 27 دسمبر 1797ء کو آگرہ میں پیدا ہوئے۔ غالب اردو کے ایک منفرد شاعر تھے ان کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ زندگی کے مشاہدات، حقائق اور انسانی نفسیات کو گہرائی میں جاکر سمجھتے تھے اور اسے بڑی ہی سادگی عام لوگوں کی سمجھ بوجھ کے لیے بیان کردیتے تھے۔ غالب کی شاعری میں انسان اور کائنات کے مسائل کے ساتھ محبت اور زندگی...
مکمل تعارف پڑھیں