ہم رشک کو اپنے بھی گوارا نہیں کرتے
مرتے ہیں ولے ان کی تمنا نہیں کرتے
در پردہ انہیں غیر سے ہے ربط نہانی
ظاہر کا یہ پردہ ہے کہ پردا نہیں کرتے
یہ باعث نومیدی ارباب ہوس ہے
غالبؔ کو برا کہتے ہیں اچھا نہیں کرتے
مرزا غالب
Ham rashk ko apne bhī gavārā nahīñ karte
Marte hain vale un kī tamannā nahīñ karte
Dar-parda unheñ gair se hai rabt-e nihānī
Zāhir kā ye parda hai ke parda nahīñ karte
Ye bā_is-e nau-mīdī-e arbāb-e havas hai
Ghalibؔ ko burā kahte hain achchhā nahīñ karte
غالب کا اصل نام اسد اللہ بیگ تھا، وہ 27 دسمبر 1797ء کو آگرہ میں پیدا ہوئے۔ غالب اردو کے ایک منفرد شاعر تھے ان کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ زندگی کے مشاہدات، حقائق اور انسانی نفسیات کو گہرائی میں جاکر سمجھتے تھے اور اسے بڑی ہی سادگی عام لوگوں کی سمجھ بوجھ کے لیے بیان کردیتے تھے۔ غالب کی شاعری میں انسان اور کائنات کے مسائل کے ساتھ محبت اور زندگی...
مکمل تعارف پڑھیں