حسن بے پروا خریدار متاع جلوہ ہے
آئنہ زانوئے فکر اختراع جلوہ ہے
تا کجا اے آگہی رنگ تماشا باختن
چشم وا گردیدہ آغوش وداع جلوہ ہے
مرزا غالب
Husn-e be-parvā KHarīdār-e matā-e jalva hai
Ā_īna zānū-e fikr-e iKHtirā-e jalva hai
Tā kujā ai āgahī rang-e tamāshā bāKHtan
Chashm vā gardīda-e āġhosh-e vidā-e jalva hai
غالب کا اصل نام اسد اللہ بیگ تھا، وہ 27 دسمبر 1797ء کو آگرہ میں پیدا ہوئے۔ غالب اردو کے ایک منفرد شاعر تھے ان کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ زندگی کے مشاہدات، حقائق اور انسانی نفسیات کو گہرائی میں جاکر سمجھتے تھے اور اسے بڑی ہی سادگی عام لوگوں کی سمجھ بوجھ کے لیے بیان کردیتے تھے۔ غالب کی شاعری میں انسان اور کائنات کے مسائل کے ساتھ محبت اور زندگی...
مکمل تعارف پڑھیں