مرزا غالب

شاعر

تعارف شاعری

جس زخم کی ہو سکتی ہو تدبیر رفو کی

جس زخم کی ہو سکتی ہو تدبیر رفو کی
لکھ دیجیو یا رب اسے قسمت میں عدو کی
اچھا ہے سر انگشت حنائی کا تصور
دل میں نظر آتی تو ہے اک بوند لہو کی
کیوں ڈرتے ہو عشاق کی بے حوصلگی سے
یاں تو کوئی سنتا نہیں فریاد کسو کی
دشنے نے کبھی منہ نہ لگایا ہو جگر کو
خنجر نے کبھی بات نہ پوچھی ہو گلو کی
صد حیف وہ ناکام کہ اک عمر سے غالبؔ
حسرت میں رہے ایک بت عربدہ جو کی
گو زندگی زاہد بے چارہ عبث ہے
اتنا ہے کہ رہتی تو ہے تدبیر وضو کی
اب بے خبراں میرے لب زخم جگر پر
بخیہ جسے کہتے ہو شکایت ہے رفو کی

مرزا غالب