مرزا غالب

شاعر

تعارف شاعری

جور سے باز آئے پر باز آئیں کیا

جور سے باز آئے پر باز آئیں کیا
کہتے ہیں ہم تجھ کو منہ دکھلائیں کیا
رات دن گردش میں ہیں سات آسماں
ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا
لاگ ہو تو اس کو ہم سمجھیں لگاو
جب نہ ہو کچھ بھی تو دھوکا کھائیں کیا
ہو لیے کیوں نامہ بر کے ساتھ ساتھ
یا رب اپنے خط کو ہم پہنچایں کیا
موج خوں سر سے گزر ہی کیوں نہ جائے
آستان یار سے اٹھ جائیں کیا
عمر بھر دیکھا کیا مرنے کی راہ
مر گئے پر دیکھیے دکھلائیں کیا
پوچھتے ہیں وہ کہ غالبؔ کون ہے
کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا

مرزا غالب