کیوں نہ ہو چشم بتاں محو تغافل کیوں نہ ہو
یعنی اس بیمار کو نظارے سے پرہیز ہے
مرتے مرتے دیکھنے کی آرزو رہ جائے گی
وائے ناکامی کہ اس کافر کا خنجر تیز ہے
عارض گل دیکھ روئے یار یاد آیا اسدؔ
جوشش فصل بہاری اشتیاق انگیز ہے
مرزا غالب
Kyun na ho chashm-e-butaan mahv-e-taghaful kyun na ho
Yaani us beemar ko nazaare se parhez hai
Marte marte dekhne ki aarzoo reh jaayegi
Wae nakami ke us kaafir ka khanjar tez hai
Aariz-e-gul dekh roo-e-yaar yaad aaya Asad
Joshish-e-fasl-e-bahari ishtiyaq-angez hai
غالب کا اصل نام اسد اللہ بیگ تھا، وہ 27 دسمبر 1797ء کو آگرہ میں پیدا ہوئے۔ غالب اردو کے ایک منفرد شاعر تھے ان کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ زندگی کے مشاہدات، حقائق اور انسانی نفسیات کو گہرائی میں جاکر سمجھتے تھے اور اسے بڑی ہی سادگی عام لوگوں کی سمجھ بوجھ کے لیے بیان کردیتے تھے۔ غالب کی شاعری میں انسان اور کائنات کے مسائل کے ساتھ محبت اور زندگی...
مکمل تعارف پڑھیں