لب عیسیٰ کی جنبش کرتی ہے گہوارہ جنبانی
قیامت کشتۂ لعل بتاں کا خواب سنگیں ہے
بیابان فنا ہے بعد صحراۓ طلب غالبؔ
پسینہ توسن ہمت تو سیل خانۂ زیں ہے
مرزا غالب
Lab-e-eesa ki junbish karti hai gahwara-junbani
Qayamat kushta-e-laal-e-butaan ka khwab-e-sangin hai
Biyabaan-e-fana hai baad-e-sahra-e-talab Ghalib
Paseena-e-tousan-e-himmat to sail-e-khana-zeen hai
غالب کا اصل نام اسد اللہ بیگ تھا، وہ 27 دسمبر 1797ء کو آگرہ میں پیدا ہوئے۔ غالب اردو کے ایک منفرد شاعر تھے ان کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ زندگی کے مشاہدات، حقائق اور انسانی نفسیات کو گہرائی میں جاکر سمجھتے تھے اور اسے بڑی ہی سادگی عام لوگوں کی سمجھ بوجھ کے لیے بیان کردیتے تھے۔ غالب کی شاعری میں انسان اور کائنات کے مسائل کے ساتھ محبت اور زندگی...
مکمل تعارف پڑھیں