مستی بہ ذوق غفلت ساقی ہلاک ہے
موج شراب یک مژۂ خواب ناک ہے
جز زخم تیغ ناز نہیں دل میں آرزو
جیب خیال بھی ترے ہاتھوں سے چاک ہے
جوش جنوں سے کچھ نظر آتا نہیں اسدؔ
صحرا ہماری آنکھ میں یک مشت خاک ہے
مرزا غالب
Masti ba-zauq-e-ghaflat-e-saaqi halak hai
Mauj-e-sharāb yak maza-e-khwab-e-naak hai
Juz zakhm-e-tegh-e-naaz nahin dil mein aarzoo
Jaib-e-khayaal bhi tere hathon se chaak hai
Josh-e-junoon se kuch nazar aata nahin Asad
Sahra hamari aankh mein yak musht-e-khak hai
غالب کا اصل نام اسد اللہ بیگ تھا، وہ 27 دسمبر 1797ء کو آگرہ میں پیدا ہوئے۔ غالب اردو کے ایک منفرد شاعر تھے ان کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ زندگی کے مشاہدات، حقائق اور انسانی نفسیات کو گہرائی میں جاکر سمجھتے تھے اور اسے بڑی ہی سادگی عام لوگوں کی سمجھ بوجھ کے لیے بیان کردیتے تھے۔ غالب کی شاعری میں انسان اور کائنات کے مسائل کے ساتھ محبت اور زندگی...
مکمل تعارف پڑھیں