مرزا غالب — شاعر کی تصویر

نہ تھا کچھ تو خدا تھا کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا — مرزا غالب

شاعر

تعارف شاعری

نہ تھا کچھ تو خدا تھا کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا

نہ تھا کچھ تو خدا تھا کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا
ڈبویا مجھ کو ہونے نے نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا
ہوا جب غم سے یوں بے حس تو غم کیا سر کے کٹنے کا
نہ ہوتا گر جدا تن سے تو زانو پر دھرا ہوتا
ہوئی مدت کہ غالبؔ مر گیا پر یاد آتا ہے
وہ ہر اک بات پر کہنا کہ یوں ہوتا تو کیا ہوتا

Na thaa kuchh to Khudaa thaa, kuchh na hota to Khudaa hota

Na thaa kuchh to Khudaa thaa, kuchh na hota to Khudaa hota
Duboya mujh ko hone ne, na hota mai.n to kyaa hota
Hu.aa jab gham se yuu.n be-his to gham kyaa sar ke kaTne ka
Na hota gar judaa tan se to zaanuu par dharaa hota
Hu.ii muddat ki Ghalib mar gayaa par yaad aata hai
Wo har ik baat par kahnaa ki yuu.n hota to kyaa hota

شاعر کے بارے میں

مرزا غالب

غالب کا اصل نام اسد اللہ بیگ تھا، وہ 27 دسمبر 1797ء کو آگرہ میں پیدا ہوئے۔ غالب اردو کے ایک منفرد شاعر تھے ان کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ زندگی کے مشاہدات، حقائق اور انسانی نفسیات کو گہرائی میں جاکر سمجھتے تھے اور اسے بڑی ہی سادگی عام لوگوں کی سمجھ بوجھ کے لیے بیان کردیتے تھے۔ غالب کی شاعری میں انسان اور کائنات کے مسائل کے ساتھ محبت اور زندگی...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام