قیامت ہے کہ سن لیلیٰ کا دشت قیس میں آنا
تعجب سے وہ بولا یوں بھی ہوتا ہے زمانے میں
دل نازک پہ اس کے رحم آتا ہے مجھے غالبؔ
نہ کر سرگرم اس کافر کو الفت آزمانے میں
مرزا غالب
Qayaamat hai ki sun Laila ka dasht-e-Qais me.n aanaa
Ta.ajjub se wo bolaa yuu.n bhii hota hai zamaane me.n
Dil-e-naazuk pe us ke rahm aata hai mujhe Ghalib
Na kar sargarm us kaafir ko ulfat aazmaane me.n
غالب کا اصل نام اسد اللہ بیگ تھا، وہ 27 دسمبر 1797ء کو آگرہ میں پیدا ہوئے۔ غالب اردو کے ایک منفرد شاعر تھے ان کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ زندگی کے مشاہدات، حقائق اور انسانی نفسیات کو گہرائی میں جاکر سمجھتے تھے اور اسے بڑی ہی سادگی عام لوگوں کی سمجھ بوجھ کے لیے بیان کردیتے تھے۔ غالب کی شاعری میں انسان اور کائنات کے مسائل کے ساتھ محبت اور زندگی...
مکمل تعارف پڑھیں