ز بسکہ مشق تماشا جنوں علامت ہے
کشاد و بست مژہ سیلی ندامت ہے
نہ جانوں کیونکہ مٹے طعن بد عہدی
تجھے کہ آئنہ بھی ورطۂ ملامت ہے
بہ پیچ و تاب ہوس سلک عافیت مت توڑ
نگاہ عجز سر رشتۂ سلامت ہے
وفا مقابل و دعواۓ عشق بے بنیاد
جنون ساختہ و فصل گل قیامت ہے
مرزا غالب
Za bas-ki mashq-e-tamasha junoon alamat hai
Kushad-o-bast-e-mazha saili-e-nadamat hai
Na jaanoon kyonkar mite ta'n-e-bad-ahdi
Tujhe ki aaina bhi wartah-e-malaamat hai
Ba pech-o-taab-e-hawas silk-e-aafiyat mat tod
Nigah-e-ajz sar-e-rishta-e-salamat hai
Wafa muqabil-o-da'wa-e-ishq be-bunyad
Junoon sakhta-o-fasl-e-gul qayamat hai
غالب کا اصل نام اسد اللہ بیگ تھا، وہ 27 دسمبر 1797ء کو آگرہ میں پیدا ہوئے۔ غالب اردو کے ایک منفرد شاعر تھے ان کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ زندگی کے مشاہدات، حقائق اور انسانی نفسیات کو گہرائی میں جاکر سمجھتے تھے اور اسے بڑی ہی سادگی عام لوگوں کی سمجھ بوجھ کے لیے بیان کردیتے تھے۔ غالب کی شاعری میں انسان اور کائنات کے مسائل کے ساتھ محبت اور زندگی...
مکمل تعارف پڑھیں