محسن بھوپالی — شاعر کی تصویر

ابھی کچھ اور بھی گرد و غبار ابھرے گا — محسن بھوپالی

شاعر

تعارف شاعری

ابھی کچھ اور بھی گرد و غبار ابھرے گا

ابھی کچھ اور بھی گرد و غبار ابھرے گا
پھر اس کے بعد مرا شہ سوار ابھرے گا
سفینہ ڈوبا نہیں ہے نظر سے اوجھل ہے
مجھے یقین ہے پھر ایک بار ابھرے گا
پڑی بھی رہنے دو ماضی پہ مصلحت کی راکھ
کریدنے سے فقط انتشار ابھرے گا
ہمارے عہد میں شرط شناوری ہے یہی
ہے ڈوبنے پہ جسے اختیار ابھرے گا
شب سیہ کا مقدر شکست ہے محسنؔ
در افق سے پھر انجم شکار ابھرے گا

Abhi kuchh aur bhi gard o ghubaar ubhrega

Abhi kuchh aur bhi gard o ghubaar ubhrega
Phir us ke baad mera shah-sawar ubhrega
Safeena dooba nahin hai nazar se ojhal hai
Mujhe yaqeen hai phir ek baar ubhrega
Padi bhi rehne do maazi pe maslihat ki raakh
Kureedne se faqat intishar ubhrega
Hamare ahd mein shart-e-shinawari hai yehi
Hai doobne pe jise ikhtiyar ubhrega
Shab-e-siyah ka muqaddar shikast hai Mohsin!
Dar-e-ufuq se phir anjum shikaar ubhrega

شاعر کے بارے میں

محسن بھوپالی

محسن بھوپالی اردو ادب کے اُن معتبر اور ہمہ جہت شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے کلاسیکی روایت کو عصری حسّاسیت کے ساتھ ہم آہنگ کیا۔ ان کا اصل نام ع...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام