المدد اے چاک دامانو قبا خطرے میں ہے
ڈوبنے والو بچاؤ نا خدا خطرے میں ہے
خون دل دینا ہی ہوگا اے اسیران چمن
بوئے غنچہ روئے گل دست صبا خطرے میں ہے
مصلحت کوشی ہے یا شوخی طرز بیاں
راہبر خود کہہ رہا ہے قافلہ خطرے میں ہے
چاک دامانوں پہ محسن انگلیاں اٹھتی رہی تھیں
آج لیکن کج کلا ہوں کی قبا خطرے میں ہے
محسن بھوپالی