محسن بھوپالی کا کلام
- 01 سیر دنیا سے پلٹ کر جب قدم گھر میں رکھا Sair-e-duniya se palat kar jab qadam ghar mein rakha آواز میں دستیاب
- 02 میں محو ہو گیا تھا کچھ دیر سوچنے میں Main mahv ho gaya tha kuch der sochne mein آواز میں دستیاب
- 03 ڈوبنے والے نے جب شور مچانا چاہا Doobne wale ne jab shor machana chaha آواز میں دستیاب
- 04 اہتمام رسن و دار سے کیا ہوتا ہے Ahtemam rasan-o-daar se kya hota hai آواز میں دستیاب
- 05 جو مسکراتے ہوئے غم چھپانا جانتا ہے Jo muskuraate hue gham chhupana jaanta hai آواز میں دستیاب
- 06 وہ نہ میرا ہی تھا محسن نہ وہ اپنا نکلا Woh na mera hi tha Mohsin na woh apna nikla آواز میں دستیاب
- 07 وہ دے گیا ہے ہمیں انتظار کا موسم Woh de gaya hai hamein intizaar ka mausam آواز میں دستیاب
- 08 ۸ جنوری (۱۹۵۳) 8 January (1953) آواز میں دستیاب
- 09 نگار صبح درخشاں سے لو لگائے ہوئے Nigaar-e-subh-e-darakhshaan se lau lagaaye hue آواز میں دستیاب
- 10 جس کا درد بٹاؤ گے Jis ka dard bataoge آواز میں دستیاب
- 11 ضبط کر اے دلِ مجرُوح کہ اِس دُنیا میں Zabt kar ay dil-e-majrooh ke is duniya mein آواز میں دستیاب
- 12 تو کبھی خود کو بے خبر تو کر Tu kabhi khud ko be-khabar to kar آواز میں دستیاب
- 13 غلط تھے وعدے مگر میں یقین رکھتا تھا Ghalat the waade magar main yaqeen rakhta tha آواز میں دستیاب
- 14 لب اگر یوں سیے نہیں ہوتے Lab agar yoon siye nahin hote آواز میں دستیاب
- 15 بچھڑ کے تجھ سے میسر ہوئے وصال کے دن Bichhaṛ ke tujh se muyassar hue visal ke din آواز میں دستیاب
- 16 چاہت میں کیا دنیا داری عشق میں کیسی مجبوری Chahat mein kya duniya-dari ishq mein kaisi majboori آواز میں دستیاب
- 17 سہمے سہمے چلتے پھرتے لاشے جیسے لوگ Sehme sehme chalte phirte laashe jaise log آواز میں دستیاب
- 18 خرد بھی زیر دام ہے، جنوں بھی زیر دام ہے Khurd bhi zer-e-daam hai, junoon bhi zer-e-daam hai آواز میں دستیاب
- 19 ملے تھے خوف سے، بچھڑے ہیں اعتماد کے ساتھ Mile the khauf se, bichhṛe hain e'timad ke saath آواز میں دستیاب
- 20 نظر ملا کے ذرا دیکھ مت جھکا آنکھیں Nazar mila ke zara dekh mat jhuka aankhen آواز میں دستیاب
- 21 ابھی کچھ اور بھی گرد و غبار ابھرے گا Abhi kuchh aur bhi gard o ghubaar ubhrega آواز میں دستیاب
- 22 نا چھیڑو کھلتی کلیوں ، ہنستے پھولوں کو Na chheṛo khilti kaliyon, hanste phoolon ko آواز میں دستیاب
- 23 دوستو بارگہہ قتل سجاتے جاؤ Dosto bargah-e-qatil sajate jao آواز میں دستیاب
- 24 کیا ضروری ہے اب یہ بتانا مرا Kya zaroori hai ab yeh batana mera آواز میں دستیاب
- 25 بے خبر سا تھا مگر سب کی خبر رکھتا تھا Be-khabar sa tha magar sab ki khabar rakhta tha آواز میں دستیاب
- 26 لفظ تو ہوں لب اظہار نہ رہنے پائے Lafz to hon lab-e-izhar na rehne paaye آواز میں دستیاب
- 27 یہ میرے چاروں طرف کس لیے اجالا ہے Yeh mere charon taraf kis liye ujala hai آواز میں دستیاب
- 28 وہ برگ خشک تھا اور دامن بہار میں تھا Woh barg-e-khushk tha aur daman-e-bahar mein tha آواز میں دستیاب
- 29 ہمارے گھر تباہ ہوں، غم و ملال کچھ بھی ہو Hamare ghar tabah hon, gham o malaal kuch bhi ho آواز میں دستیاب
- 30 یوں ہی تو شاخ سے پتے گرا نہیں کرتے Yun hi to shakh se patte gira nahin karte آواز میں دستیاب
- 31 بے سبب لوگ بدلتے نہیں مسکن اپنا Be-sabab log badalte nahin maskan apna آواز میں دستیاب
- 32 زاویہ کوئی مقرر نہیں ہونے پاتا Zavya koi muqarrar nahin hone paata آواز میں دستیاب
- 33 اپنا آپ تماشا کر کے دیکھوں گا Apna aap tamasha kar ke dekhunga آواز میں دستیاب
- 34 جاہل کو اگر جہل کا انعام دیا جائے Jahil ko agar jehl ka inaam diya jaaye آواز میں دستیاب
- 35 المدد اے چاک دامانو قبا خطرے میں ہے Almadad ae chaak-damanon qaba khatre mein hai آواز میں دستیاب
- 36 اب یہ سوچوں تو بھنور ذہن میں پڑ جاتے ہیں Ab ye sochun to bhanwar zehn mein paD jaate hain آواز میں دستیاب