search
شعرا
ایکس سپیس
سپیکرز
ہمارے متعلق
رابطہ کیجیے
محسن بھوپالی
شاعر
تعارف
شاعری
کلام
سیر دنیا سے پلٹ کر جب قدم گھر میں رکھا
میں محو ہو گیا تھا کچھ دیر سوچنے میں
ڈوبنے والے نے جب شور مچانا چاہا
اہتمام رسن و دار سے کیا ہوتا ہے
جو مسکراتے ہوئے غم چھپانا جانتا ہے
وہ نہ میرا ہی تھا محسن نہ وہ اپنا نکلا
وہ دے گیا ہے ہمیں انتظار کا موسم
۸ جنوری (۱۹۵۳)
نگار صبح درخشاں سے لو لگائے ہوئے
جس کا درد بٹاؤ گے
ضبط کر اے دلِ مجرُوح کہ اِس دُنیا میں
تو کبھی خود کو بے خبر تو کر
غلط تھے وعدے مگر میں یقین رکھتا تھا
لب اگر یوں سیے نہیں ہوتے
بچھڑ کے تجھ سے میسر ہوئے وصال کے دن
چاہت میں کیا دنیا داری عشق میں کیسی مجبوری
سہمے سہمے چلتے پھرتے لاشے جیسے لوگ
خرد بھی زیر دام ہے، جنوں بھی زیر دام ہے
ملے تھے خوف سے، بچھڑے ہیں اعتماد کے ساتھ
نظر ملا کے ذرا دیکھ مت جھکا آنکھیں
ابھی کچھ اور بھی گرد و غبار ابھرے گا
نا چھیڑو کھلتی کلیوں ، ہنستے پھولوں کو
دوستو بارگہہ قتل سجاتے جاؤ
کیا ضروری ہے اب یہ بتانا مرا
بے خبر سا تھا مگر سب کی خبر رکھتا تھا
لفظ تو ہوں لب اظہار نہ رہنے پائے
یہ میرے چاروں طرف کس لیے اجالا ہے
وہ برگ خشک تھا اور دامن بہار میں تھا
ہمارے گھر تباہ ہوں، غم و ملال کچھ بھی ہو
یوں ہی تو شاخ سے پتے گرا نہیں کرتے
بے سبب لوگ بدلتے نہیں مسکن اپنا
زاویہ کوئی مقرر نہیں ہونے پاتا
اپنا آپ تماشا کر کے دیکھوں گا
جاہل کو اگر جہل کا انعام دیا جائے
المدد اے چاک دامانو قبا خطرے میں ہے
اب یہ سوچوں تو بھنور ذہن میں پڑ جاتے ہیں