کون اس تیغ ستم گر سے بچا
جو بچا اپنے مقدر سے بچا
صاف انکار ہی بہتر ہے کہ میں
زحمت عرض مکرر سے بچا
لے نہ ڈوبیں مری موجیں مجھ کو
آ مجھے میرے سمندر سے بچا
جس کو آئینہ بنانا ہو تجھے
ایسے پتھر کو مرے سر سے بچا
راستے میں مجھے منزل نہ ملی
یہ بھی اچھا ہوا ٹھوکر سے بچا
آشیاں شاخ ہوا پر اس کا
میرے ٹوٹے ہوئے شہ پر سے بچا
محبس ذات سے باہر لے چل
مجھ کو اس گنبد بے در سے بچا
میں جو محسنؔ ہوا مجروح تو کیا
وہ بھی کب وقت کے خنجر سے بچا
محسن زیدی