search
شعرا
ایکس سپیس
سپیکرز
ہمارے متعلق
رابطہ کیجیے
محسن زیدی
شاعر
تعارف
شاعری
کلام
میرے قلم نے نہ باطل کا تذکرہ لکھا
اک میں ہی سرنگوں تو نہ پسپائیوں میں تھا
میری طرح رات کو غزلیں کہا کرو
کوئی پیکر ہے نہ خوشبو ہے نہ آواز ہے وہ
کون اس تیغ ستم گر سے بچا
پہلے فلک سے فرش پہ پھینکا گیا مجھے
رستے میں خاک ہو کے بکھرنا ضرور ہے
رہنے دو اک دو گھڑی دیوار و در کے سامنے
ویسے تو ہم سفر ہیں سبھی راستوں میں لوگ
باغ سارا تو بیاباں نہ ہوا تھا سو ہوا
میں ایک حرف معانی کا ایک دفتر وہ
یوں سمجھ لو کہ بجز نام خدا کچھ نہ رہا
اس طرف سے اس طرف تک خشک و تر پانی میں ہے
اگر چمن کا کوئی در کھلا بھی میرے لیے
رستے میں کوئی آ کے عناں گیر ہو نہ جائے
یہ جور اہل عزا پر مزید کرتے رہے
چند لمحوں کے لئے انجمن آرائی تھی
چاروں طرف بلند نشاں تیرگی کا تھا
جتنا تہذیب بدن سے میں سنورتا جاؤں
گلہ نہیں کہ مخالف مرا زمانہ ہوا
زمانے بھر کی ذلت سامنے تھی
منزل و سمت سفر سے بے خبر نا آشنا
وہ موت کا منظر جو تھا دن رات وہی ہے
جانا ہے اسی سمت کہ چارہ نہیں کوئی
کیا دیکھتے ہو راہ میں رک کر یہاں وہاں
بسکہ دشوار ہے اس شخص کا چہرا لکھنا
دکھا رہی ہے جہاں دھوپ اب اثر اپنا
دیوار اب کہیں نہ کوئی در دکھائی دے
نقش پانی پہ بنایا کیوں تھا
دور تک سبزہ کہیں ہے اور نہ کوئی سائباں
امید کوئی نہیں آسرا بھی کوئی نہیں
یہ سخن جو میری زباں پہ ہے یہ سخن ہے اس کا کہا ہوا
ہر روز نیا حشر سر راہ گزر تھا
کوئی بے وجہ کیوں خفا ہوگا
دوش ہوا پہ تنکوں کا یہ آشیانہ کیا
یہ ہیں جو آستین میں خنجر کہاں سے آئے
کسی کے دوش نہ مرکب سے استفادہ کیا
خواہش تخت و تاج اور ہے کچھ
کوئی دیوار نہ در جانتے ہیں
ہمیں تو خیر کوئی دوسرا اچھا نہیں لگتا
کوئی کشتی میں تنہا جا رہا ہے
ٹھہرے ہوئے نہ بہتے ہوئے پانیوں میں ہوں
اک آس تو ہے کوئی سہارا نہیں تو کیا