مومن خان مومن

شاعر

تعارف شاعری

تعارف

حکیم مومن خاں مومن کا تعلق ایک کشمیری گھرانے سے تھا۔ ان کا اصل نام محمد مومن تھا۔ ان کے دادا حکیم مدار خاں شاہ عالم کے عہد میں دہلی آئے اور شاہی طبیبوں میں شامل ہو گئے۔ مومن دہلی کے کوچہ چیلان میں 1801 میں پیدا ہوئے۔ ان کے دادا کو بادشاہ کی طرف سے اک جاگیر ملی تھی جو نواب فیض خان نے ضبط کرکے ایک ہزار روپے سالانہ پنشن مقرر کر دی تھی۔ یہ پنشن ان کے خاندان میں جاری رہی۔ مومن خان کا گھرانا بہت مذہبی تھا۔ انہوں نے عربی تعلیم شاہ عبدالقادر دہلوی سے حاصل کی۔ فارسی میں بھی ان کو مہارت تھی۔ دنیوی علوم کی تعلیم انہوں نے مکتب میں حاصل کی۔ علوم متداولہ کے علاوہ ان کو طب، رمل، نجوم ریاضی، شطرنج اور موسیقی سے بھی دلچسپی تھی، جوانی میں قدم رکھتے ہی انہوں نے شاعری شروع کردی تھی اور شاہ نصیر سے اصلاح لینے لگے تھے لیکن جلد ہی انہوں نے اپنی مشق اور جذبات کے راست بیاں کے طفیل دہلی کے شاعروں میں اپنی خاص جگہ بنا لی۔ مالی لحاظ سے وہ متوسط طبقہ سے تعلق رکھتے تھے۔ خاندانی پنشن ایک ہزار روپے سالانہ ضرور تھی لیکن وہ پوری نہیں ملتی تھی جس کا شکوہ ان کے فارسی خطوط میں ملتا ہے۔ مومن خاں کی زندگی اور شاعری پر دو چیزوں نے بہت گہرا اثر ڈالا۔ ایک ان کی رنگین مزاجی تھی اور دوسری ان کی مذہبیت۔ لیکن ان کی زندگی کا سب سے دلچسپ حصہ ان کے معاشقے ہی ہیں۔ محبت زندگی کا تقاضہ بن کر بار بار ان کے دل و دماغ پر چھاتی رہی۔ ان کی شاعری پڑھ کر محسوس ہوتا ہے کہ شاعر کسی خیالی نہیں بلکہ ایک جیتی جاگتی محبوبہ کے عشق میں گرفتار ہے۔