بہار باغ ہو مینا ہو جام صہبا ہو
ہوا ہو ابر ہو ساقی ہو اور دریا ہو
روا ہے کہہ تو بھلا اے سپہر نا انصاف
ریائے زہد چھپے راز عشق رسوا ہو
بھرا ہے اس قدر اے ابر دل ہمارا بھی
کہ ایک لہر میں روئے زمین دریا ہو
جو مہرباں ہیں وہ سوداؔ کو مغتنم جانیں
سپاہی زادوں سے ملتا ہے دیکھیے کیا ہو
محمد رفیع سودا
Bahar-e-bagh ho, meena ho, jaam-e-sahba ho
Hawa ho, abr ho, saqi ho aur darya ho
Rawa hai keh tu bhala ay sipahr-e-na-insaaf
Riyaz-e-zahd chhupaye raaz-e-ishq ruswa ho
Bhara hai is qadar ay abr-e-dil hamara bhi
Ke ek lahar mein roo-e-zameen darya ho
Jo meharban hain woh Sauda ko mughatanam jaanein
Sipahi zadon se milta hai dekhiye kya ho
مرزا محمد رفیعؔ، تخلص سودا، اردو ادب کے عظیم کلاسیکی شاعر تھے، جن کی پیدائش تقریباً 1713ءمیں دہلی میں ہوئی۔ ان کا تعلق ایک معزز خاندان سے تھا جس کے آباؤ اجداد ابتدائی طور پر تجارت یا فوجی پیشے سے وابستہ تھے۔ والد مرزا محمد شفیع نے ہندوستان میں تجارت اختیار کی اور دہلی میں مستقل سکونت اختیار کر لی۔ ابتدائی تعلیم میں انہوں نے عربی اور فارسی کی تعل...
مکمل تعارف پڑھیں