دیکھے بلبل جو یار کی صورت
پھر نہ دیکھے بہار کی صورت
برق دیکھی ہو جس نے سو جانے
مجھ دل بے قرار کی صورت
دل ترستا ہے دیکھنے کو مرا
خنجر آب دار کی صورت
جو کوئی دیکھتا ہے روتا ہے
مجھ دل داغ دار کی صورت
وہی سوداؔ کے دل کی سمجھیں قدر
دیکھیں جو لالہ زار کی صورت
محمد رفیع سودا
Dekhe bulbul jo yaar ki surat
Phir na dekhe bahaar ki surat
Barq dekhi ho jis ne so jaane
Mujh dil-e-beqaraar ki surat
Dil tarasta hai dekhne ko mera
Khanjar-e-aab-daar ki surat
Jo koi dekhta hai rota hai
Mujh dil-e-daagh-daar ki surat
Wahi Sauda ke dil ki samjhein qadr
Dekhein jo laala-zaar ki surat
مرزا محمد رفیعؔ، تخلص سودا، اردو ادب کے عظیم کلاسیکی شاعر تھے، جن کی پیدائش تقریباً 1713ءمیں دہلی میں ہوئی۔ ان کا تعلق ایک معزز خاندان سے تھا جس کے آباؤ اجداد ابتدائی طور پر تجارت یا فوجی پیشے سے وابستہ تھے۔ والد مرزا محمد شفیع نے ہندوستان میں تجارت اختیار کی اور دہلی میں مستقل سکونت اختیار کر لی۔ ابتدائی تعلیم میں انہوں نے عربی اور فارسی کی تعل...
مکمل تعارف پڑھیں