ہر مژہ پر ہے ترے لختِ دل اس رنجور کا
خون ہے سو دار پر ثابت مرے منصور کا
پونچھتے ہی پونچھتے گزرے ہے مجھ کو روز و شب
چشم ہے یارب مری یا منہ کسی ناسور کا
آفتابِ صبحِ محشر داغ پر دل کے مرے
حکم رکھتا ہے طبیبو! مرہمِ کافور کا
کیا کروں گا لے کے واعظ ہاتھ سے حوروں کے جام
ہوں میں ساغر کش کسی کی نرگسِ مخمور کا
اس قدر بنت العنب سے دل ہے سودا کا برا
زخم نے دل کے نہ دیکھا منہ کبھو انگور کا
محمد رفیع سودا