search
شعرا
ایکس سپیس
سپیکرز
رابطہ
منیرنیازی
شاعر
تعارف
شاعری
کلام
کوئی حد نہیں ہے کمال کی
آ گئی یاد شام ڈھلتے ہی
میری ساری زندگی کو بے ثمر اس نے کیا
اس کا نقشہ ایک بے ترتیب افسانے کا تھا
اشک رواں کی نہر ہے اور ہم ہیں دوستو
غم کی بارش نے بھی تیرے نقش کو دھویا نہیں
محفل آرا تھے مگر پھر کم نما ہوتے گئے
اپنے آپ نال گلاں
ابھی مجھے اک دشت صدا کی ویرانی سے گزرنا ہے
خیال جس کا تھا مجھے خیال میں ملا مجھے
خیال یکتا میں خواب اتنے
زندہ رہیں تو کیا ہے جو مر جائیں ہم تو کیا
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں
اتنے خاموش بھی رہا نہ کرو
ان سے نین ملا کے دیکھو
اپنا تو یہ کام ہے بھائی دل کا خون بہاتے رہنا
نئی محفل میں پہلی شناسائی
وہ جو میرے پاس سے ہو کر کسی کے گھر گیا
ہونی دے حیلے