ندیم بخاری

شاعر

تعارف شاعری

دکھ اذیت ملال رکھے ہیں

دکھ اذیت ملال رکھے ہیں
ترکے اپنے سنبھال رکھے ہیں
اے محبت ترے لیے اب بھی
ذہن میں کچھ سوال رکھے ہیں
ہم نے اِس بے ہنر زمانے میں
کچھ چھپا کر کمال رکھے ہیں
جو ترے نام سے ملے مجھ کو
دل میں وہ درد پال رکھے ہیں
آ ذرا دیکھ بے خیالی میں
تیرے کتنے خیال رکھے ہیں
وصل کا ایک پل نہیں مجھ میں
ہجر کے ماہ و سال رکھے ہیں

ندیم بخاری