کیسا عجیب عشق کا دستور ہو گیا
میثم کوئی ہوا کوئی منصور ہو گیا
یادوں کا زخم پھیل کے ناسور ہو گیا
چہرہ کسی کے ہجر میں بے نور ہو گیا
تعریف اُس کے حسن کی مہنگی پڑی ہمیں
وہ دلرُبا تو اور بھی مغرور ہو گیا
اک دو ہمارے شعر بھی مشہور کیا ہوئے
قصہ ہمارے پیار کا مشہور ہو گیا
کل تک جو میرے دل سے نکلتا نہ تھا ندیم
وہ میری زندگی سے بہت دور ہو
ندیم بخاری