search
شعرا
ایکس سپیس
سپیکرز
ہمارے متعلق
رابطہ کیجیے
نصیر ترابی
شاعر
تعارف
شاعری
کلام
وہ ہم سفر تھا مگر اس سے ہم نوائی نہ تھی
تجھے کیا خبر مرے بے خبر مرا سلسلہ کوئی اور ہے
سکوت شام سے گھبرا نہ جائے آخر تو
صبا کا نرم سا جھونکا بھی تازیانہ ہوا
رچے بسے ہوئے لمحوں سے جب حساب ہوا
مثل صحرا ہے رفاقت کا چمن بھی اب کے
ملنے کی طرح مجھ سے وہ پل بھر نہیں ملتا
مرہم وقت نہ اعجاز مسیحائی ہے
میں بھی اے کاش کبھی موج صبا ہو جاؤں
کوئی آواز نہ آہٹ نہ خیال ایسے میں
اس کڑی دھوپ میں سایہ کر کے
انجیل رفتگاں کی حدیثوں کے ساتھ ہوں
ہمرہی کی بات مت کر امتحاں ہو جائے گا
دیا سا دل کے خرابے میں جل رہا ہے میاں
دیکھ لیتے ہیں اب اس بام کو آتے جاتے
درد کی دھوپ سے چہرے کو نکھر جانا تھا